بنگلورو،4/فروری(ایس او نیوز) بروہت بنگلورو مہا نگر پالیکے(بی بی ایم پی) نے شہر کی عوام کو ہر ماہ بجلی کے بل کی رقم کی بنیاد پر گھریلو اور کاروباری کوڑے(گاربیج یوزر) کی فیس عائد کرنے کا منصوبہ بنا یا ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ شہری ترقیات کو حال ہی ہیں پیشکش روانہ کی گئی ہے۔
بتا یا جا تا ہے کہ اگر محکمہ شہری ترقیات نے بی بی ایم پی کی پیشکش کو اجازت دی تو شہریان بنگلور کو سالانہ جائیداد ٹیکس کے ساتھ کوڑے کی دیکھ بھال کے لئے ٹیکس کو آئندہ ہر ماہ بجلی کے بل کے ساتھ ادا کرنا پڑے گا۔ذرائع نے بتا یا کہ اب تک حکومت کے گرانٹ میں ہی کوڑے کی نکاسی کے لئے رقم مختص کی جاتی تھی،لیکن حکومت کی جانب سے کوڑے کی نکاسی کی ذمہ داری مقامی اداروں پر عائد کئے جانے کی وجہ سے اب بی بی ایم پی نے کوڑے کا ٹیکس ماہانہ وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بتا یا جا تا ہے کہ بی بی ایم پی حدود میں بسنے والے افراد سے ہر سال جائیداد ٹیکس کے ساتھ ایک فیصد کوڑے کا ٹیکس بھی وصول کیا جاتا تھا،لیکن اس رقم سے کوڑے کی نکاسی میں مشکلات پیدا ہونے اور سالانہ800کروڑ روپئے خرچ ہو نے کی وجہ سے بی بی ایم پی نے ماہانہ ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی بی ایم پی کے ایک افسر نے بتا یا کہ سالانہ وصول کردہ کوڑے کا ٹیکس صرف35کروڑ تھا جبکہ خرچ800کروڑ آتا ہے۔بی بی ایم پی افسران نے بتا یا کہ سوچھ بھارت اسکیم کے تحت ملک کی کئی ریاستوں میں بجلی کے بل کے ساتھ کوڑے کے ٹیکس کی وصو لی کا نظام موجود ہے۔
انہوں نے بتا یا کہ بجلی کے بل کے ساتھ گاربیج یوزر فیس وصول کرنے سے ہر ماہ70کروڑ روپئے وصول ہوں گے اور اس رقم کو کوڑے کی نکاسی کرنے والے کنٹراکٹروں کی بل اور صفا ئی کرمچاریوں کی تنخواہ کے لئے استعمال کیا جا ئے گا۔ افسروں نے بتا یا کہ اس طرح گھریلو گاربیج یو زورس سے ما ہا نہ48.76کروڑ (سالانہ585.17کروڑ) اور کاروباری گاربیج یوزرس سے ماہانہ23.93کروڑ (سالانہ187.22کروڑ) وصول کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح بجلی بل کے ساتھ سالانہ870.40کروڑ روپئے کوڑا ٹیکس وصل کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں بی بی ایم پی ک وجائنٹ کمشنر برائے کوڑا نکاسی سرفراز خان نے کہا کہ بی بی ایم پی کوڑے کے ٹیکس کے ذریعہ 35کروڑ روپئے وصول کر رہا ہے لیکن 800کروڑ خرچ کئے جا رہے ہیں۔اسلئے بجلی کے بل کے ساتھ کوڑے کا ٹیکس وصول کرنے کی پیشکش روانہ کی گئی ہے اور حکومت کی سطح پر فیصلہ کے بعدیہ نظام جاری کیا جا ئے گا۔بی بی ایم پی کے سابق حکمران جماعت کے سربراہ کانگریس کے سابق کارپوریٹر عبدالواجد نے بتا یا کہ بجلی کے بل کے ساتھ کوڑے کا ٹیکس وصول کرنے کی پیشکش پہلے ہی مسترد کی گئی تھی۔ انہو ں نے بتا یا کہ اب بی بی ایم پی میں کو ئی منتخب نمائندہ نہیں ہے اور افسران بھی عوام کے مفاد میں نہیں ہیں،جبکہ کووڈ کی وجہ سے عوام پہلے ہی پریشان ہیں اسلئے حکومت اس پیشکش کو مسترد کردے۔
بی بی ایم پی کے سابق حکمران جماعت کے سربراہ بی جے پی کے سابق کارپوریٹر این آر رمیش نے کہا کہ موجودہ حالات میں کوڑے کا ٹیکس وصول کرنا مناسب نہیں ہے۔بی بی ایم پی کی ا س پیشکش سے عوام الجھن کا شکار ہیں۔ انہوں نے بتا یا کہ بنگلور میں موجود کمرشیل کامپلکس کی عمارتوں سے سختی کے ساتھ جائیداد ٹیکس وصول کیا گیا تو سالانہ7تا8ہزار کروڑ روپئے وصول کئے جا سکتے ہیں۔ این آر رمیش نے کہا کہ سرکاری عمارتوں میں سرویس ٹیکس650کروڑ روپئے بقیہ ہیں۔ اسلئے بی بی ایم پی ان وسائل سے رقم اکھٹا کرنے کی بجائے عوام پر بوجھ نہ ڈالے۔